Namaaz Ka Bayaan

شبِ معراج میں نماز کس طرح فرض کی گئ؟

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلم نے فرمایا:"(ایک شب)میرے گھر کی چھت کھولی گئ اور میں مکہ میں تھا، پھر جِبرائیلؑ اُترےاور انھوں نے میرے سینے کوچاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے
دھویا،پھر ایک تشت سونے کا حِکم و ایمان سے بھرا ہوا لاۓ اور اسے میرے سینے میں دال دیا،پھر سینے کو بند کر دیا۔ اس
کے بعد میرا ھاتھ پکڑلیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گۓ تو جب میں اسمانِ دنیا پر پںھچا توجِبرائیلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ)کھول دو تو اس نے کھا یہ کون ہے؟ وہ بولے کہ یہ جِبرائیلؑ -پھر ا­سنے کہا کیا تمہارے ساتھ کوئ(اور بھی)ہے؟ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وصلم نے فرمایا:"(ایک شب)میرے گھر کی چھت کھولی گئ اور میں مکہ میں تھا، پھر جِبرائیلؑ اُترےاور انھوں نے میرے سینے کوچاک کیا، پھر اسے زمزم کے پانی سے دھویا،پھر ایک تشت سونے کا حِکم و ایمان سے بھرا ہوا لاۓ اور اسے میرے سینے میں دال دیا،پھر سینے کو بند کر دیا۔ اس کے بعد میرا ھاتھ پکڑلیا اور مجھے آسمان پر چڑھا لے گۓ تو جب میں اسمانِ دنیا پر پںھچا توجِبرائیلؑ نے آسمان کے داروغہ سے کہا کہ (دروازہ)کھول دو تو اس نے کھا یہ کون ہے؟ وہ بولے کہ یہ جِبرائیلؑ نے کہا ہاں! میرے ہمراہ محمدصلی اللہ علیہ وصلم ہیں۔ پھر اسنے کہا کیا وہ بلاۓ گۓ ہہں؟جِبرائیلؑ نے کہا ہاں پس جب دروازہ کھول دیا گیا تو ہم اسمان دنیا کے اوپر چڑھے، پس یکایک میری ایک ایسے شخص پر (نظر پڑی) جو بیٹھا ہوا تھا ،اس کے بایٓں جانب (بھی)کچھ لوگ تھے جب وہ اپنے دایئں جانب دیکھتے تو ہنس دیتے اور جب بائیں طرف دیکھتے تو رو دیتے۔ پھر انھوں نے(مجھےدیکھ کر) کہا ''مرحبا(خوش آمدید)نیک پیغمبر اور نیک بیٹے''میں نےجِبرائیلؑ سے پوچھاکہ یہ کون ہیں؟تو انھوں نے کہا کہ یہ آدمؑ ہیں اور جو لوگ ان کے داہنے اور بائیں ہیں،ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں جانب جنت والے ہیں اور بائیں جانب دوزخ والے ۔ اسی سبب سے جب وہ اپنی دائیں جانب نظر کرتے ہیں تو ہنس دیتے ہیںا اور جب بائیں طرف دیکھتے ہیں تو رونے لگتے ہیں ہہاں تک کہ مجے دوسرے اسمان تک لے گیے اور اس کے داروغہ سے کہا کہ دروازہ کھولو تو انسے داروغہ نےاسی قسم کی گفتگو کی جیسی پھلے نے کی تھی۔پھر دروازہ کھول دیا گیا۔ سیـدنا انس رضی اللہ عنہ کھتے ہیں پھر سید ابو زر رضی اللہ عنہ نے زکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وصلم نے اسمانوں میں آدمؑ، ادریسؑ، موسیٰ ؑ، عیسیٰ ؑ، اور ابراھیم ؑکو پایا اور(انکے ٹھکانے بیان نہیں کیے، صرف اتنا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وصلمنے)آدم ؑ کو آسمان دنیا پر اور ابراھیم ؑ چھٹے آسمان پرپایا۔
Previous
Next Post »